Tuberose Flowers - Agave Amica

Tuberose 

"ٹیوب روز"  جسے اردو میں "گل مریم یا  رَجنی گندھا ی" کہا جاتا ہے ،لیکن عام طور پر " ٹیوب روز" کے نام سے پہچانا جاتا ہے، یہ ایک نہایت خوشبودار پھول ہے۔ یہ پھولوں کی کٹ فلاور کی ورائیٹی ہے ، جو کئی دنوں تک گلدانوں میں تروتازہ رہتے ہیں اور اس کی خوشگوار مہک فضا کو معطر رکھتی ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں ٹیوب روز کوبہت پسند کیا جاتا ہے اور کاشتکار اس کی تجارتی بنیادوں پر کاشت کرتے ہیں۔

اہم خصوصیات

سفید، پیلے ، ہلکے گلابی اور ہلکے نیلے رنگ کے انتہائی خوشبودار پھول، سفید قسم کے پھول زیادہ پسند کئے جاتے ہیں ۔

کاشت اس کے پیاز نما بلب سے کی جاتی ہے۔ ایک بار بلب لگانے کے بعد کئی سال تک بلب سے نئی فصل حاصل کی جا سکتی ہے۔

پھول مارکیٹ میں روزانہ فروخت کیے جا سکتے ہیں۔

گرم اور معتدل موسم میں بہترین نشوونما کرتا ہے۔ 

بیج (بلب)

ٹیوب روز بلب سے کاشت کیا جاتا ہے۔

صحت مند اور بیماری سے پاک بلب استعمال کریں

دیکھ بھال

باقاعدہ آبپاشی کریں، مگر پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔

گوڈی اور جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی کریں۔

متوازن کھاد استعمال کرنے سے پھولوں کی پیداوار بہتر ہوتی ہے۔


کاشت کا موسم (پنجاب)

فروری سے اپریل بہترین وقت ہے۔

آبپاشی کی سہولت ہو تو مارچ تک بھی کاشت کی جا سکتی ہے۔کیاریاں زمین کے لیول سے اُونچی ہونی چاہئے تاکہ پانی بلب کو خراب نہ کرسکے ۔

زمین

زرخیز، اچھی نکاسی والی میرا یا بھل زمین۔

مٹی کا pH تقریباً 6.5 سے 7.5 موزوں ہے۔۔

پیداوار

اچھی دیکھ بھال سے ایک ایکڑ سے ہزاروں کٹ فلاور اسپائکس حاصل ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ نئے بلب بھی تیار ہوتے ہیں، جنہیں فروخت کرکے اضافی آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔


اس کی آمدنی کے ذرائع

تازہ پھولوں کی فروخت، شادیوں اور تقریبات کیلئے سپلائی، نرسریوں اور کسانوں کو بلب کی فروخت، عطر اور خوشبو کی صنعت میں استعمال۔

اگر مارکیٹ تک رسائی اچھی ہو تو دوسرے کئی روایتی پھولوں کے مقابلے میں اس سے بہتر منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔۔

کیا اس کا کاروبار منافع بخش ہے؟

جی ہاں، اگر آپ کے قریب پھولوں کی منڈی یا بڑے شہرموجود ہوں تو ٹیوب روزز ایک منافع بخش کاروبار ثابت ہوسکتاہے۔ اس پھول کی ڈیمانڈ منڈیوں اور پھولوں کی دکانوں پر زیادہ ہے۔ کئی چھوٹے کاشتکار شہر کی مختلف مارکیٹس میں ڈائیریکٹ دکان داروں کو بھی سپلائی کرتے ہیں، جس سے کاشتکاروں کو صحیح منافع مل جاتا ہے۔


پنجاب، پاکستان میں ایک ایکڑ پر ٹیوب روز (رَجنی گندھا) کی کاشت کا معاشی جائزہ

 تخمینہ لاگت (ایک ایکڑ)

مد تخمینہ لاگت (روپے)

بلب 2,50,000 – 5,00,000

زمین کی تیاری 25,000 – 40,000

کھاد و کھادیں 40,000 – 70,000

آبپاشی 20,000 – 35,000

جڑی بوٹی اور کیڑے/بیماریوں کا کنٹرول 20,000 – 40,000

مزدوری 50,000 – 80,000

کل لاگت 4,05,000 – 7,65,000 روپے۔

ایک ایکڑ کے لیے بلب کی ضرورت

بلب کا سائز: 2–3 سینٹی میٹر یا اس سے بڑا

بلب کی تعداد: تقریباً 40,000 سے 50,000 بلب فی ایکڑ


ڈرپ آبپاشی اختیار کرنے سے پانی کی بچت اور پیداوار میں بہتری آتی سکتی ہے

> نوٹ:    پہلے سال لاگت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ بلب خریدنے پڑتے ہیں۔ بعد کے سالوں میں اپنے تیار کردہ بلب استعمال کرنے سے لاگت نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔

ممکنہ خالص منافع

پہلے سال: تقریباً 6 سے 25 لاکھ روپے (مارکیٹ ریٹ اور پیداوار پر منحصر)

بعد کے سال: چونکہ بلب دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں، اس لیے منافع عام طور پر مزید بڑھ جاتا ہے۔

کامیابی کے لیے اہم نکات

بڑے شہروں کی پھول منڈیوں سے پہلے ہی رابطہ کریں۔

پھول صبح سویرے کاٹ کر فوری مارکیٹ بھیجیں۔

معیاری بلب استعمال کریں۔

نکاسی آب کا اچھا انتظام رکھیں

 متوقع پیداوار

کٹ فلاور اسپائکس: 80,000 سے 1,50,000 فی ایکڑ (اچھی دیکھ بھال پر)

اضافی آمدنی: نئے بلب فروخت کر کے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔

متوقع آمدنی

اگر فی اسپائک اوسط قیمت 15 سے 30 روپے ملے تو:

کم آمدنی: تقریباً 12 لاکھ روپے

اچھی مارکیٹ میں: 20 سے 35 لاکھ روپے یا اس سے بھی زیادہ


Comments