سعودی صحرا کی سنہری دولت: نر الطلع کا بازار
تحریر: عامر بادشاہ، (فیس بک پوسٹ) جب فروری کا مہینہ آتا ہے تو سعودی عرب کے دیہی علاقوں، خاص طور پر الاحساء، قصیم اور مدینہ کے آس پاس کے گاؤں میں ایک عجیب و غریب مگر خوبصورت منظر سامنے آتا ہے۔ سڑکوں کے کنارے، چھوٹے چھوٹے بازاروں میں یا پھر کاروں کے پیچھے کھلے ڈبوں میں لمبی لمبی خشک شاخیں لٹکی ہوئی نظر آتی ہیں۔ یہ کوئی عام لکڑی یا پھول نہیں، بلکہ نر کھجور کے تلع ہیں—وہ مقدس پولن جو مادہ درختوں کو پھل دینے کے لیے درکار ہوتا ہے۔
ایک بوڑھا سعودی کسان، سفید لباس اور سرخ و سفید غترہ میں ملبوس، اپنی وین کے پیچھے بیٹھا ہے۔ اس کے سامنے لکڑی کا ایک تختہ رکھا ہے جس پر کچھ لکڑی کی طرح لگنے والی شاخیں سجائی گئی ہیں۔ تختے پر سرخ رنگ سے لکھا ہے: "صاحب الطلع" یا "حب الطلع بقى يونا"۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ شخص نہ صرف الطلع بیچ رہا ہے بلکہ اس کی قیمت بھی مقرر ہے۔ یہ منظر سعودی عرب کی زرعی روایت کا زندہ ثبوت ہے جو ہزاروں سال سے چلا آ رہا ہے۔
کھجور کا درخت (Phoenix dactylifera) فطرت کا ایک انوکھا شاہکار ہے۔ یہ dioecious نوع ہے، یعنی نر اور مادہ الگ الگ درخت ہوتے ہیں۔ نر درخت پولن دیتے ہیں، مادہ پھل۔ اگر پولن نہ پہنچے تو مادہ درخت خوبصورت تو لگتے ہیں مگر خالی رہتے ہیں۔ قدیم زمانے سے عرب کسان اس مسئلے کا حل جانتے تھے۔ وہ نر درختوں سے تلع (spadix) کاٹ کر لاتے، ان کی شاخوں کو مادہ کے پھولوں میں ڈالتے اور ہوا یا ہاتھ سے پولن منتقل کرتے۔ آج بھی یہی روایت زندہ ہے، البتہ کچھ جدید فارموں میں مشینوں اور سپرے کا استعمال بڑھ گیا ہے۔
گاؤں میں یہ الطلع بیچنا ایک موسم کی نشانی ہے۔ فروری-مارچ میں جب مادہ درختوں کے پھول کھلتے ہیں تو نر تلع کی مانگ عروج پر ہوتی ہے۔ ایک اچھا نر درخت سینکڑوں مادہ درختوں کو پولن مہیا کر سکتا ہے۔ کسان صبح سویرے باغات سے تلع کاٹتے، انہیں احتیاط سے باندھتے اور پھر بازاروں یا سڑکوں پر بیچنے نکلتے ہیں۔ قیمت بھی مناسب ہوتی ہے—چند ریال میں ایک شاخ، مگر اس کی اہمیت لاکھوں میں ہے کیونکہ اسی سے وہ سنہری کھجوریں پیدا ہوتی ہیں جو سعودی عرب کو دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بناتی ہیں۔
سعودی عرب میں تقریباً تین کروڑ سے زائد کھجور کے درخت ہیں جن سے سالانہ ڈیڑھ سے دو ملین ٹن کھجوریں حاصل ہوتی ہیں۔ الاحساء کا "کھجوروں کا جنگل"، قصیم کے وسیع باغات اور بریدہ کے عظیم فارم اس کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ نہ صرف معیشت کا ستون ہیں بلکہ ثقافتی ورثہ بھی۔ رمضان میں کھجور افطار کی پہلی چیز، حجاج کے لیے تحفہ، اور دنیا بھر میں سعودی مہمان نوازی کی علامت۔
مگر یہ منظر—وہ بوڑھا کسان، وین کے پیچھے لٹکتی شاخیں، اور صحرا کی دھوپ میں چمکتی کھجوریں—یاد دلاتا ہے کہ ترقی کے باوجود روایات زندہ ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی آ گئی، مگر ہاتھ سے پولن لگانے کی خوشبو اب بھی فضا میں ہے۔ یہ سعودی صحرا کی سنہری دولت ہے جو نہ صرف پیٹ بھرتی ہے بلکہ تاریخ اور ثقافت کو بھی زندہ رکھتی ہے۔
جب اگلی بار آپ سعودی کھجور کھائیں تو ذرا سوچیے گا—اس میٹھی لذت کے پیچھے ایک نر تلع کا سفر ہے جو گاؤں کی سڑکوں سے آپ کی تھالی تک پہنچا۔

Comments
Post a Comment