Rasbhari in Swat - Ground Cherry - Cape Gooseberry - Chinese lantern - Physalis Peruviana - Alkekengi

رس بھری چھوٹی بیری نما ٹماٹرکی شکل و ساخت کاایک خوبصورت اور بہت سارے طبی خواص کا حامل پھل ہے۔ اس کی خاص خوبصورتی پھل کے اردگرد ایک جالی دارتھیلی ہوتی ہے جس کے اندر پھل ایسے لگتا ہے جیسے گونگے کے اندرسیپ۔
اس پھل کو اُردو اور ہندی میں "رس بھری" کہتے ہیں جبکہ انگریزی میں "کیپ گووز بیری یا گراؤنڈ چیری" کہا جاتاہے۔ رس بھری دنیا کے بیشتر ممالک کے تھوڑے سے گرم مرطوب علاقوں میں قدرتی طور پر اُگنے والا پودا ہے جس کا آبائی علاقہ برازیل اور جنوبی امریکہ کے علاقے ہیں۔ جبکہ شمالی افریقہ، آسٹریلیا، چائنا، تھائی لینڈ، نیوزی لینڈ، مصر، انڈیا میں اس کو باقاعدہ کاشت کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بہت سارے علاقوں میں یہ جنگلی طورپر اُگنے والا پودا ہے اور بہت کم ہی اس کی باقاعدہ کاشت ہوتی ہے۔ جبکہ دیگر ممالک میں اس کو باقاعدہ بطور پھل کی طرح کاشت کیاجاتا ہے اورباقاعدگی سے مارکیٹ میں سپلائی کیاجاتاہے۔
اس کا تعلق پودوں کے"سولنسیا"خاندان سے ہے جس میں ٹماٹر، آلو اور بینگن کے پودے آتے ہیں۔ اس کا نباتاتی نام"فیسالیس پروینا" ہے، جس کا رنگ پیلازردیانارنجی گولڈن کلرہوتا ہے جبکہ اس کی ایک اور قسم جس کا رنگ نہایت خوبصورت سرخ ہوتا ہے کو"فیسالیس الکیکنجی"کہتے ہیں اورعام زبان میں اس کو "چائنیزلینٹرن"کہاجاتاہے۔ دنیا کے بیشتر علاقوں میں رس بھری "کیپ گووزبیری ؍ گولڈن بیری یا گراونڈ چیری"کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ضلع سوات کے نسبتاً گرم علاقوں میں یہ پودا جنگلی اُگتا ہے ، جس کے سرخ رنگ کے پھل کو "کوٹی لال"کہتے ہیں۔ پختونخوا کے دیگر گرم مرطوب علاقوں چارسدہ، صوابی، مردان، نوشہرہ اور شبقدر میں بھی پیلے رنگ کی رس بھری کا پودا اُگتا ہے۔ جبکہ راولپنڈی اسلام آباد اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھی اس کا پودا پایاجاتا ہے جس کا پھل اکثربازار میں دستیاب ہوتا ہے۔ پختونخوا میں چونکہ اس پھل سے کوئی اتنا آشنا نہیں اس لئے اس کی کوئی خاص استعمال بھی نہیں ہے جبکہ پنجاب و دیگر ملحقہ علاقوں کے شہروں میں اکثرجون جولائی کے موسم میں پھلوں کی دکانوں پر دستیاب ہوتاہے۔ راولپنڈی میں فیض آباد مری روڈپر پیڈسٹرن برج کے پاس والی فروٹس کی دکانوں پرمل جاتاہے۔
رس بھری کا پودا مرچ اور ٹماٹرکے پودے ہی جیسا ہوتا ہے جس کی نرم ٹہنیاں پتوں سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔ پودوں میں جون کے اوائل میں زرد رنگ کے چھوٹے چھوٹے پھول لگنا شروع ہوجاتے ہیں جن پر بعد میں ایک مخروطی شکل کی سبز رنگ کی تھیلی نما خوبصورت پوتلی ظاہرہونا شروع ہوجاتی ہے، کیپ گووز بیری میں یہ تھیلی سبز رنگ کی ہوتی ہے جو بعد میں پیلے زرد یا گولڈن کلر کی ہوجاتی ہے جبکہ چائنز لینٹرن میں یہ تھیلی سبز سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ رس بھری کا پھل اس تھیلی کے اندر لگا ہوتا ہے، رس بھری کا خوبصورت زردوسرخ رنگ کا پھل جھلکتا ہوا بہت جاذب نظر محسوس ہوتا ہے۔ اس کا خوشگوار میٹھاذائقہ معمولی ترشی مائل ٹماٹر کی طرح ہی ہوتا ہے جبکہ شکل اور پھل کی اندرونی ساخت بھی ٹماٹرہی کی طرح ہوتی ہے۔ رس بھری میں وٹامن اے اور سی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے، یہ پھل ہماری روزمرہ کی ضرورت کا چودہ فیصدوٹامن اے اور18فیصد وٹامن سی کی مقدار کو پورا کرتا ہے۔اس کے ہر100گرام سے تقریباًچارگرام پروٹین بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔یہ وٹامن بی کمپلیکس کا خزانہ ہے جبکہ اس میں تھائیمین، نیاسین اور کئی معدنیات جیسے آئرن، فاسفورس،کیلشیم بھی پائے جاتے ہیں، یعنی یہ ایک چھوٹے سے دانے میں قدرت کی طرف سے غذاکا بیش بہا خزانہ ہے۔
رس بھری کے بہت سارے طبی فوائد بھی ہیں اور کئی اطباء اس کو اپنے نسخوں میں استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ جدید ادویہ سازی میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔رس بھری اینٹی استیمک، اینٹی سپٹک،اینٹی فلامیٹری،اینٹی آکسیڈنٹ،جراثیم کش اور مانع السریعنی اینٹی کینسر خواص کا حامل پھل ہے۔ اس پھل کی یہ خاصیت بھی ہے کہ یہ جگر کی حفاظت کرتاہے، یہ آپ کے بلڈپریشر کو کنٹرول کرنے میں معاون ہے بلکہ شوگرکی بیماری میں بھی مفید ہے۔طبی خواص کا حامل یہ پھل نہ صرف بطور میڈیسنل پلانٹ استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کا استعمال مختلف انواع واقسام کے کھانوں ، میٹھائیوں اور سویٹ ڈشز میں بھی ہوتا ہے۔ اس کا مربہ اور جام بھی بنایاجاتاہے اور شربت بھی۔ہمارے عوام کا اس پودے سے زیادہ آشنائی نہ ہونے کی وجہ سے اکثر یہ پھل ضائع ہوجاتا ہے اور استعمال میں نہیں لایاجاتا۔اس کوآسانی سے عام پھل کی طرح کھایاجاتاہے۔ پھل توڑے کے بعد اگر اس کو اس کی تھیلی سے نہ نکالا جائے تو یہ تقریباً ایک مہینے تک محفوظ اور تازہ رہتا ہے۔ 
نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں گوگل اور ویکیپیڈیا سے مدد لی گئی ہے۔ پودوں کے نام انگریزی میں لکھنا یہاں ممکن نہیں اس لئے اُردو میں لکھے گئے ہیں۔ 

Comments

  1. Nice information

    ReplyDelete
  2. What different between Cap gooseberry & Ashgawnda

    ReplyDelete

Post a Comment