پھر سے متنازعہ روئیت ہلال


تمام مسلمانوں کو رمضان الکریم کی مبارک باد
رمضان کریم کا مہینہ اپنی برکتوں، رحمتوں اور نعمتوں کے ساتھ ہمارے دہلیز پر ہے جس کو خوش آمدید کہنا اور اس بابرکت مہینے میں برکات و ثواب سمیٹنا ہر مسلمان اپنے لئے باعث افتخار سمجھتا ہے لیکن افسوس کہ اس بابرکت مہینے کے آغاز اور پھر اس کے اختتام پر کبھی بھی حکومت اور مقامی روئیت ہلال کمیٹیاں ایک نہ ہوسکیں ۔ برسوں کی روائت کر برقرار رکھتے ہوئے اس مرتبہ پھر ملک بھر میں رمضان کا اعلان ایک نہ ہوسکا۔ پشاور میں مسجد قاسم علی خان نے کل رات گئے رمضان المبارک کے چاند کی روئیت کا اعلان کردیا اور دس گواہان کی شرعی شہادتوں پر جناب شہاب الدین پوپلزئی صاحب نے رمضان الکریم کی مبارک باد دے دی جس کی رو سے آج 18جون 2015کو پشاور، چارسدہ، مردان، صوابی، کوہاٹ، فاٹا کے علاقوں سمیت کچھ دیگر اضلاع میں بھی روزہ رکھا گیاہے۔
فیس بک چیک کرتے ہوئے مہتاب عزیز بھائی کی ایک پوسٹ پر نظر پڑی جس میں اُنہوں نے پشاور کی مسجد قاسم علی خان کی تاریخ لکھی ہے۔ میرے لئے بھی یہ بہت معلوماتی تحریر ہے اور آپ کیلئے بھی میں یہاں شیئر کررہا ہوں۔
پاکستان میں رمضان اور عید کے چاند کی رویت ہر سال ہی تنازعے کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک طرف مفتی منیب الرحمٰن کی سربراہی میں سرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اعلان سامنے آتا ہے تو دوسری جانب مسجد قاسم خان میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی رویت کا اعلان کرتے ہیں۔ یوں عموما پورے ملک میں ایک ساتھ رمضان اور عید نہیں ہو پاتے۔ عموما لوگوں کا خیال ہے کہ مسجد قاسم خان سے ہونے والا اعلان کوئی تازہ وادات ہے جس کا مقصد صرف انتشار پھیلانا ہے۔ 
بہت کم لوگوں کو اس حقیقت کا علم ہوگا کہ پشاور کی مسجد قاسم خان سے چاند کی رویت کا فیصلہ ہونے کی راویت کئی صدیوں سے جاری ہے۔ 
پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازار کے پہلو میں واقع مسجد قاسم خان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی پہلی تعمیر اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں پشاور کے گورنر محبت خان نے کی تھی۔ (محبت خان کے بھائی کا نام قاسم خان تھا)۔ بعد ازاں اس کی تعمیر نو اور توسیع کشمیری نژاد سوداگر حاجی غلام احمد صمدانی کے ہاتھوں اٹھارویں صدی کے آخر میں سرانجام پائی جو آج تک برقرار ہے۔ مسجد قاسم خان میں رمضان اور شوال کے چاند کی رویت کا آغاز احمد شاہ ابدالی کے عہد میں پشاور کے قاضی اور خطیب مسجد قاسم خان عبدالرحیم پوپلزئی نے کیا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کے بعد پشاور سکھوں کی علمداری میں چلا گیا، بعد ازاں طویل عرصے تک انگریزوں کے زیر قبضہ رہا۔ اس تمام عرصے میں رویت کا حتمی فیصلہ مسجد قاسم خان سے ہی ہوتا رہا۔ عبد الرحیم پوپزئی کے بعد اُن کے فرزند حافظ محمد آمین پوپزئی اور پھر اُن کے فرزند عبدالقیوم پوپزئی اور پوتے عبدالحکیم پوپزئی مسجد کے خطیب مقرر ہوئے اور یہاں سے رویت کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ عبدالحکیم کے فرزند عبد الرحیم پوپزئی ثانی مسجد قاسم خان کے خطیب کے ساتھ ساتھ صوبہ سرحد میں تحریک خلافت کے سرگرم کارکن اور امیر بھی تھے۔ قصہ خوانی کے مشہور قتل عام کے بعد آپ کو بغاوت پھیلانے کے جرم میں قید کی سزاء سنائی گئی تھی۔ دوسری مرتبہ آپ کو وزیرستان میں انگریزی طیاروں کی بمباری کے خلاف بنوں میں احتجاج کی پاداشت میں طویل عرصے کے لئے قید کر دیا گیا تھا۔ عبد الرحیم پوپزئی ثانی کے بعد مسجد قاسم خان کی خطابت آپ کے چھوٹے بھائی عبدالقیوم پوپزئی کرتے رہے۔ جن کے فرزند مفتی شہاب الدین پوپزئی مسجد قاسم خان کے موجودہ خطیب ہیں۔ 
پشاور و اطراف کے علاوہ دیر، بونیر، ملاکنڈ اور قبائل کی اکثر آبادی آج بھی سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے بجائے مسجد قاسم خان سے ہونے والے رویت کے اعلان کے مطابق رمضان اور عید مناتے ہیں۔
مکمل تحریر اس لنک پر ملاحظہ کیجئے۔ 
آسان سی بات ہے کہ رمضان سمیت دیگر مہینوں کیلئے چاند کی روئیت ضروری ہے۔ اگر موسم کی خرابی یا کسی اور وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو پچھلے مہینے کے دن پورے کئے جائیں(مذہبی احکامات کے مطابق) اور پھر اگلے مہینے کے آغاز کا اعلان کیا جائے۔ مادیت پرستی اور روز مرہ زندگی کی مصروف ترین شیڈیول کی وجہ سے دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں خاص کر وہاں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں روئیت ہلال کا اہتمام نہیں کیاجاتا بلکہ سعودی عرب کے اعلان پر وہ بھی اسی دن عید اور رمضان مناتے ہیں۔ لیکن اگر چاند اور سورج کے طلوع و غروب کا اندازہ لگائیں تو جغرافیائی لحاظ سے مشرق سے مغرب تک تمام ممالک میں الگ الگ روزہ ہوگا۔ اب اس ضمن میں علماء کرام ہی اچھا مشورہ دیں گے۔ اگگاگ
Ramzan-Ramadan-kareem-2015-Masjid-Qasim-Ali-Khan-Popalzai-Moon-Sighting-Urdu-Blog-Noons-www.noons.inof-Naeem-Khan-naeemswat

Comments

  1. آپ نے مسجد قاسم علی خان کی تاریخ اور خاص طور پر ان کی رویت ہلال کا جو ذکر کیا، کیا اس کا کوئی مستند حوالہ مل سکتا ہے؟ ویسے آپ نے جن صاحب کو نقل کیا، ان سے بھی اس متعلق گزارش کی ہے۔
    سنا ہے کہ پاکستان کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے پہلے رویت ہلال تو تقریباً ہر بڑی مسجد اور خاص طور پر دیہاتوں میں بھی ہوا کرتی تھی۔ اگر اسی پرانی رویت ہلال کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے مسجد قاسم علی خان کو معتبر ماننا ہے تو پھر دوسری مساجد کی رویت ہلال کمیٹیوں کو بھی آزادی دے دی جائے۔ پھر پہلے کی طرح قریہ قریہ بستی بستی اپنا اپنا چاند اور اپنی اپنی عید ہوا کرے گی۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. بلال بھائی، میں نے پشاور میں بچپن سے مسجد قاسم علی خان کے بارے میں یہ باتیں سنی ہیں اور مہتاب عزیز صاحب نے وہی باتیں ایک تحریر کی شکل میں لکھ ڈالیں۔ اُن سے میں نے بھی گزارش کی ہے۔
      میرے خیال میں ہر مسجد میں رویئت ہلال کمیٹی ہونی چاہئے اور پہلے ایسا ہی ہوا کرتا تھا کہ ہر گاؤں، دیہات، قصبات کی مساجد یا کسی دوسری اُونچی اور واضح جگہ پر لوگ بڑے اہتمام سے چاند دیکھا کرتے تھے اور جب کوئی دیکھ لیتا تھا تو اُس کی شہادت زونل کمیٹی اور پھر وہاں سے اُن کی شہادت کو روئیت ہلال کمیٹی کو بھیجی جاتی تھی۔ یہ عمل سب کا مشترکہ ہوتا تھا۔ مگر اب ہر کوئی اپنے کاموں میں اتنا مصروف ہے کہ چاند دیکھنا تو دور کی بات کوئی نماز پڑھنے بھی مسجد نہیں جاتا۔ سب یہی سمجھتے ہیں کہ بھئی کمیٹی اعلان کرے گی تو عید یا روزہ نہیں تو نہ سہی۔
      اب بھی اگر آپ دیکھیں تو اکثر دیہات وقصبات میں ویسے ہی اہتمام سے لوگ ہر مہینے کا چاند دیکھتے ہیں اور اُس کی اطلاع اپنے متعلقہ مساجد میں کرتے رہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اُن کی شہادتوں کو قومی روئیت ہلال کمیٹی اتنی وقعت نہیں دیتی اور نہی ہی اُن پوری شہادتوں کا انتظار کرتی ہے۔

      Delete

Post a Comment