وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ


وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ

مسلمانان عالم نے رسول آخر زماں نبی کریم محمد ﷺ کی پیدائش کا دن 12ربیع الاول 1436ہجری 4جنوری 2015کو بہت دھوم دھام سے منایا۔ 
بہترین طریقہ منانے کا میرے نزدیک رسول کریم ﷺ پر زیادہ سے زیادہ درود شریف بھیجنا ہے اور اُن کے بتائے ہوئے طریقے پر زندگی گزارنا ہے۔
اَللَّهمّ صَلِّ علي محمّدٍ و علي آلِ محمّدِ كَما صَلِّيًتَ علي اِبًراهيِم و علي آلِ اِبًراهيِم اِنَّك حميِد‘ مجيِدِ 
اَللَّهمّ بارِك علي محمّدٍ و علي آلِ محمّدٍ كَما باركتَ علي اِبًراهيِم و علي آلِ اِبًراهيِم اِنَّك حميِد‘ مجيِدٍ

کل پاکستان سمیت انڈیا بنگلہ دیش و دیگر ممالک میں جس طرح سے 12ربیع الاول منایا گیا افسوس ہی ہوا۔ عاشقان رسول ﷺ کا جذبہ اور عشق و محبت اپنی جگہ مگر جس طرح سے منانے کا رواج فروغ پا رہا ہے یہ عین اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے علمائے کرام ایک عجیب سی خاموشی اختیار کیئے ہوئے ہیں۔ ایک محفل کی ابتداء تلاوت قرآن پاک سےکرکے، حمد و نعت خوانی کے بعد نبی کریم ﷺ کی سیرت پر خطابات و تقاریر کرنا اور حاضرین، سامعین و ناظرین کو سیرت نبی ﷺ کے بارے میں بتانا اور اس کے بعد مناسب صدقہ و خیرات کرنا میرے خیال میں جائز ہے۔ مگر کل جو میں نے ٹی وی پر دیکھا تو افسوس کے سوا کچھ نہ کرسکا۔ سجے سجائے اُونٹو کے قافلے،  حمد و نعت کی فیوژن ورژن سے بھرپور ڈی جےمیوزک سے لیس جلسے و جلوس ، طرح طرح سے بنائے گئے کعبہ و مدینہ کے اہم عمارات کی تشبیہات کے ماڈلز اُٹھائے لوگ اور پتہ نہیں کیا کیا۔۔۔ مجھے تو یوم عاشورہ کے مجالس و جلوس معلوم ہورہے تھے صرف فرق یہ تھا کہ ماتم کی جگہ خوشی کا عکس حاوی نظر آیا۔ افسوس ہمارے میڈیا کے کردارپر بھی ہوتا ہے جو ہر چیز ہر کام میں حد سے تجاوز کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور اس کا خمیازہ کئی بڑے چینلز بھگت بھی چکے ہیں مگر کیا اثر۔ وہ تو ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور کچھ زیادہ دکھانے کے شوق میں حدود کو پار کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں جو کہ معاشرے میں نہ صرف کئی نا پسندیدہ طور طریقوں کو رواج ڈالنے کے ذمہ دار بن رہے ہیں بلکہ صحیح شرعی و اسلامی نظریات و تعلیمات مسلمانوں تک نہیں  پہنچ پاتے۔ مفتی اعظم سعودی عرب نے بھی پاکستان اور اس خطہ میں رائج ہوتے ہوئے 12ربیع الاول کے جلسے و جلوسوں کو حرام قرار دیا ہے۔ 
پاکستان کے گلی گلی کوچے و بازاروں کو خوبصورتی سے سجایا گیا جو کہ ایک زندہ قوم کی علامت ہے مگر اسلام ہم کو سادگی اور کفایت شعاری کا حکم دیتا ہے۔ ہرجگہ شربتوں و دودھ کی سبیلیں لگیں، لوگوں نے نظر و نیاز، خیرات و صدقات کی دیگیں چڑھائیں، کئی کئی گز لمبے کیک کاٹے گئے، طرح طرح کے پکوان پکے اورکل صبح (4جنوری2015)کی خبروں میں یہ خبر نمایاں طور پر سنائی دی گئی کہ "تھر (سندھ) میں مزید پانچ بچے غذائی قلت کا شکار ہوکر جان بحق ہوگئے۔" اللہ کے رسول نبی آخرزماںﷺ نے بھوکوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا ہے۔ اگران نظر ونیاز و خیرات وغیرہ پر خرچ کی جانے والی رقم کا صرف آدھا حصہ اُن بھوکے ننگے بچوں اور بے سہارہ لوگوں کو دے دیا جاتا تو کیا یہ ثواب کا کام نہ ہوتا؟ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب وہ سرزمین جہاں رسول پاک ﷺ دنیا میں تشریف لائے، اگر وہ لوگ نہایت سادگی سے منا رہے ہیں تو پھر ہم کیوں اپنے حدود سے تجاوز کررہے ہیں؟ 
آئیے نبی کریم ﷺ پر درود و سلام کا تحفہ بھیجیں

12th Rabi-ul-Awal 1436h, 4th January 2014, Birthday of Muhammad PBUH

Comments

  1. Replies
    1. بہت مہربانی، ابھی تک 2014کا خمار نہیں اُترا۔نہ زبان اور نہ ہی قلم 2015لکھنے کا عادی ہے۔ تھوڑا وقت لگے گا۔ تصحیح کا بہت بہت شکریہ

      Delete
  2. یوم پیدائش منانا ہی سرے سے غلط ہے۔ اگر سلام میں یہ دن منا نا ہوتا تو حضور پاک اپنی زندگی مبارک میں منا لیتے یا صحابہ کرام یہ دن مناتے۔ پر افسوس کہ ہم لوگ آج کل وہی کام اسلام کا نام لے کر کرتے ہیں۔ جنکا اسلامی تعلیمات میں کوئی ذکر نہیں اور یہی بدعت ہے۔

    ReplyDelete

Post a Comment