یاد تھے یادگار تھے ہم تو-بلاگرز میٹ اَپ

حالیہ اندوہناک واقعات اور غمزدہ ماحول کی کیفیت میں جب دل بوجھل اور دماغ ماؤف ہورہے تھے، ہر آنکھ اشک بار اور ہر دل غمزدہ ، ایسے ماحول میں ہمارے ہر دلعزیز اور اکلوتے باقاعدہ اُردو بلاگر جناب منصور مکرم بھائی نے اطلاع دی کہ اتوار 21دسمبر کو ایک میٹنگ رکھتے ہیں جس میں آرمی پبلک سکول کے طلباء کیلئے بلاگرز کی طرف سے دعا مغفرت اور دوستوں سے اس حوالے سے گفتگو ہو گی۔
پہلے تو اسلامیہ کالج پشاور کی تاریخی عمارت کے گراؤنڈ میں بیٹھنے کا پروگرام بنا مگر پھرمیڈم صائمہ عمر، پریذیڈنٹ ایمپاور دی نیشن آرگنائزیشن نے ہماری میٹنگ کی میزبانی کی دعوت دی اور اُن کے آفس میں میٹنگ کا وقت طے ہوا۔
اس میٹنگ میں منصور مکرم بھائی کے ساتھ جناب سید شہزاد شاہ صاحب (اُردو محفل کے مستقل ممبر و ادیب) مستنصر بھائی نے شرکت کی، صحافی حضرات میں سے مدثر شاہ، اور مسرت اللہ بھائی نے شرکت کا وعدہ کیا تھا مگر پشاور کی صورتحال اور پریس کلب میں انتخابات کے سلسلے میں ضروری میٹنگز کی وجہ سے اُنہوں نے اور منصوربھائی کے دیگر صحافی دوستوں نے شرکت نہیں کی۔ آج کل پشاور میں صحافتی سطح پر ایکٹیویٹیز بہت بڑھ گئی ہیں۔ ایمپاور دی نیشن آرگنائزیشن کی طرف سے سیکرٹری فنانس عقیل احمد قریشی ، جنرل سیکرٹری محمد یونس اور ممبر انجینئر اسد نے شرکت کی۔
 تعارفی سیشن میں ہم لوگوں نے اپنا تعارف کیا کیونکہ زیادہ تر لوگ پہلی بار ملاقات کررہے تھے، فنان سیکرٹری ایم پاور دی نیشن آرگنائزیشن جناب عقیل احمد قریشی صاحب نے اپنی آرگنائزیشن کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اُن کی آرگنائزیشن پچھلے کئی سالوں سے پشاور میں یہاں کے نوجوانوں کی عملی زندگی میں تربیت کے لئے کام کررہی ہے، جو طلباء کالجز اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہو جاتے ہیں اُن کواپنا کاروبار کرنے اور اس مارکیٹ میں لین دین کی تربیت دینے کے لئے ان کی آرگنائزیشن کام کررہی ہے۔ حال ہی میں اُنہوں نے پشاور میں پرائیوٹ سیکٹر میں عالمی سطح کا قیمتی و نیم قیمتی پتھروں اور ہاتھ سے بنے زیورات کی نمائش بھی منعقد کی جس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ایسی خواتین کو اپنے کام کو دکھانے کا موقع دیا تھا جو بہت چھوٹی سطح پر کاروبار کا آغاز کرچکی ہیں اور گھر میں بیٹھ کر دیگر خواتین کے ساتھ اپنے لئے حلال رزق کما رہی ہیں۔ اس آرگنائزینش کی صدر محترمہ صائمہ عمر تو اپنی کچھ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے شرکت نہ کرسکیں مگر اُن کی کمی عقیل صاحب اوراُن کی ٹیم نے پوری کی اور ہماری بھر پور مہمان نوازی کی۔
ایک دن پہلے میں نے اُردو بلاگر گروپ میں اس بارے میں پوسٹ کیا تھا اور وعدے کے مطابق ریاض شاہد بھائی اور مصفطی ملک بھائی آن لائن آگئے تھے جنہوں نے ہمارے ساتھ بات چیت کرنا تھی اور ہمارے نئے دوستوں کو بلاگنگ کی اہمیت کے بارے میں بتانا تھا، لیکن بدقسمتی سے عین موقعے پر ہمارے لیپ ٹاپ کے مائک نے ساتھ چھوڑ دیا اور اتوار کا دن ہونے کی وجہ سے آس پاس کی دکانیں بھی بند تھیں، بس پھر مصفطی بھائی سے درخواست کی کہ وہ اپنا لیکچر جاری رکھیں، اُن کے لئے بھی بہت مشکل تھا کہ بغیر فیڈ بیک کے بولنا یوں ہے جیسے دیوار سے بات کرنا، خیر کبھی کبھی میں لکھ کر مسج کرلیتا مگر سلام ہے اُن کے حوصلے کو جنہوں نے نہایت روانی سے بلاگنگ میں اپنی آمد، بلاگ لکھنے کی شروعات اور پھر اس کی اہمیت پر کم ٹائم میں بہت ہی تفصیل سے بات کی۔ اُن کی طرف بجلی بند ہونے کا ٹائم تھا اس لئے وہ معذرت بھی کررہے تھے مگر ہمارے لئے بڑی بات تھی کہ وہ ہمارے ساتھ تھے۔ اسی طرح سے کراچی سے بلال امتیاز بھائی بھی آن لائن آئے مگر وہی مائک نہ ہونے کی وجہ سے ہم ساتھ ہوکر بھی ساتھ نہ تھے۔  تمام حضرات سے جن سے ہمارا ہینگ آؤٹ پر رابطہ نہ ہوسکا اور وہ انتظار کرتے رہے اُن سے معذرت چاہتے ہیں خاص کر ریاض شاہد بھائی، ساجد صاحب اور ڈاکٹر افتخار صاحب سے اور مصفطی ملک بھائی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ۔
ایمپاور دی نیشن آرگنائزیشن ٹیم نے پرتکلف چائے سے ہماری خاطرمدارت کی اور پھر منصور مکرم برادر نے بلاگنگ اور خاص کر اُردو بلاگنگ پر گفتگو کی، سید شہزاد صاحب نے بھی گفتگو میں حصہ لیا اور انٹرنٹ پر اُردو کی ارتقاء، ترویج و ترقی پر کافی سیر حاصل بحث کی اور بار بار ہم نے محمد بلال محمود بھائی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے کمپیوٹر اور خاص کر انٹرنیٹ پر تمام اُردو لکھنے والوں کے لئے اُردو لکھنا اور پڑھنا آسان بنایا ہے۔ اس کے بعد میں نے بیٹھے ہوئے حاضرین کو بلاگنگ کی شروعات کرنے، بلاگ بنانے اور پوسٹ لکھنے کا چھوٹا سا عملی مظاہرہ کرکے دکھایا کیونکہ اُن کی بھی خواہش تھی کہ وہ بلاگنگ کا آغاز کرسکیں۔
محفل کے اختتام پر منصور مکرم ہم کو آرمی پبلک سکول لے گئے جہاں ہم لوگوں نے تمام اُردو بلاگرز کی جانب سے  جان بحق ہونے والے اور زخمی افراد کے لئے دعا کی اور شمعیں روشن کیں۔
میرے بہت سارے دوست اس بات پر بہت سخت اعتراض کررہے ہیں کہ کسی فوت ہونے والی کی یاد میں شمعیں روشن کرنا اسلام کے اُصولوں کے منافی ہے۔  اُن کی یہ بات جائز ہوسکتی ہے کیونکہ بعض دوستوں نے حوالہ دیا کہ ایران کے آتش پرست مرنے والے کی روح کو اطمینان پہنچانے کے لئے آگ کا آلاؤ روشن کرتے اور اُن کا یہ عقیدہ تھا کہ جب تک یہ آگ روشن ہے مرنے والے کی روح چین سے ہوگی۔ بعض دوست یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے لوگ مزارات و مقبروں پر چراغ جلا کر منت وغیرہ مانگنے کی غیر شرعی بات کرتے ہیں تو اُس سے بھی یہ مشابہت کررہے ہیں۔ لیکن یہاں میں اُن کو بتاتا جاؤں کہ جیسے جیسے دنیا میں ٹیکنالوجی ترقی کرتی جارہی ہیں دنیا کے مختلف حصوں کے لوگ آپس میں قریب ہوتے جارہے ہیں اور ایک دوسرے کی غمی خوشی میں شریک ہورہے ہیں۔ آرمی پبلک سکول کا سانحہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ جس میں معصوم بچوں کا بے رحمانہ قتل عام کیا گیا۔ اس واقعے پر تمام دنیا میں غم منایا گیا۔ ہر نسل و مذہب کے لوگوں نے اس کی مذمت کی، ہر عقیدے کے لوگوں نے اپنے طور پر دعائیں، کہیں خاموشی اختیار کی گئی تو کہیں ہاتھ جوڑ کر مندر،چرچ، گرجوں، مساجد، خانقاہوں وغیرہ میں دعائیہ تقریبات منعقد کی گئیں۔ شمع روشن کرنا علم کی نشانی ہے، محبت و چاہت کی نشانی ہے، امن کا نشان ہے۔ "زندگی شمع کی صورت ہو یا رب" یہ مزارات پر جلانے والی شمع نہیں ہے، یہ تو وہ علم کی شمع ہے جس کو ہماری قوم کے دشمن بجھانا چاہتے ہیں لیکن یہ شمع اب ہر گھر میں ہر جگہ روشن ہوگی، یہ علامت ہے امن پسندی کی نہ کہ مزارات پر غیر شرعی بدعتین کرنے کی، یہ تو علم سے محبت کی نشانی ہے۔ شمع روشن کرنا عالمی سطح پر اظہار افسوس کا اور اظہار یکجہتی کا طریقہ بنتا جارہا ہےکوئی آکر ہمارے ساتھ مسجد میں بیٹھ کر دعا نہیں کرسکتا تو وہ دور بہت دور ایک شمع روشن کرکے اپنی اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کرلیتا ہے۔ میں نے پشاور شہر کے بہت ساری جگہوں پر آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں کی یاد میں روشن شمعیں دیکھیں، لوگ آتے گئے،اپنی بساط کے مطابق کسی نے شمعیں روشن کی اور کسی نے پھول نچھاور کئے۔ لوگ اُن شمعوں اُن پھولوں کے گرد جمع ہوتے گئے، جان بحق بچوں کی مغفرت اور اُن کے لواحقین کے لئے صبر کی اور زخمی افراد کی صحتیابی کے لئے دعا کرتے رہے۔ میرے خیال میں ہر شہید اور ہر مریض کی تیمارداری ممکن نہیں، تو ایسی جگہوں پر اکٹھے ہوکر تعذیت کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔
آرمی پبلک سکول کی انتظامیہ نے میں گیٹ کے ساتھ لان میں ایک جگہ مختص کی ہے جہاں لوگ آکر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، جو لوگ پھول لاتے ہیں وہ رکھ کر چلے جاتے ہیں جو شمعیں روشن کرنا چاہتے ہیں وہ محبت کی ایک شمع روشن کرلیتا ہے اور جو لوگ جان بحق ہونے والوں اور زخمیوں کے لئے ایصال ثواب کے لئے تلاوت کرنا چاہیں یا نوافل پڑھنا چاہیں تو اُن کے لئے بھی علیحدہ جگہ بنائی گئی ہے۔ تو دوستوں بے جا اعتراض کرنے کی بجائے پہلے دیکھیں کہ یہ سب کچھ کیوں اور کس لئے ہو رہا ہے پھر بے شک جتنا چاہیں اعتراض کریں۔
آپ اپنا اغیار تھے، ہم تو
یاد تھے یاد گار تھے، ہم تو
جون ایلیا

Comments

  1. ماشاء اللہ ، بہت خؤب ۔ افسوس کہ میں اس کا حصہ نہ بن سکا ۔ کچھ مصروفیات کی وجہ سے۔ پر اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کا اجر دے۔

    ReplyDelete
  2. زبردست اور جامع تحریر
    اسی لئے تو ہم نعیم بھائی کے معترف ہیں

    ReplyDelete
  3. شکریہ عاشق و منصور بھائی
    منصور آپ نے تو کچھ لکھا نہیں، آدھا دن میں آپ کی تحریر کا انتظار کرتا رہا، جب کچھ نہ آیا تو جیسے تیسے کچھ لکھ ہی ڈالا۔
    سراہنے کا بہت شکریہ

    ReplyDelete
  4. کاش ہم بھی وہاں ہوتے اور کچھ سیکھ جاتے۔ ویسے اچھی بات ہے ایسی ملاقاتوں میں ہمیں بھی اطلاع دیا کریں ہم بھی حاضر ہونگے انشاء اللہ

    ReplyDelete

Post a Comment