سوات ٹورسٹ گالا 2014


پچھلے کئی سالوں کی طرح اس سال بھی حکومت خیبر پختونخوا اور پاکستان آرمی کے باہمی اشتراک سے "سوات سمر فیسٹیول 2014" اگست کے مہینے میں منایا جارہا ہے۔ اس سال سوات سمر فیسٹیول کی تقریبات زیادہ تر کالام میں منعقد کی جارہی ہیں۔ کالام ضلع سوات کا پرفضاء مقام ہے جہاں کی ٹھنڈی آب و ہوا، شور مچاتے دریا، ندی نالے، سحر انگیز آبشار، گلیشئرز، حسین جھیلیں اور ہرے بھرے جنگلات مقامی سیاحوں کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک سے آنے والے افراد کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، کالام نہ صرف ایک خوبصورت سیاحتی مقام ہے بلکہ اس کے دلکش اطراف میں موجود خوبصورتی دیکھ کر بے اختیار دل اللہ کا شکر ادا کرنے کو چاہتا ہے۔
پاکستان آرمی کی اطلاعات کے مطابق یہ فیسٹیول اس سال "سوات ٹورسٹ گالا" کے نام سے منعقد کیا جارہا ہے جو کہ سات اگست سے دس اگست 2014 تک ہوگا۔ آزادی کی تقریبات کے حوالے سے اس فیسٹیول میں ایک میوزیکل شو کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے جس میں اُردو پشتو زبان میں میوزک پیش کیا جائے گا اور ملک کے مشہور اور نامور فنکاروں کے ساتھ مقامی فن کار بھی اپنے فن کا مظاہرہ پیش کریں گے۔ یہ فیسٹیول چار روز تک جاری رہے گا، جس میں پیرا گلائیڈنگ، پیراجمپنگ، میراتھن ریس، جیپ ریلی، کار موٹر سائیکل جمپ، آرمی ڈرل شو، واٹر سپورٹس، ائرسپورٹس، کوہ پیمائی، بون فائر، ٹینٹ سٹی، نیزہ بازی، ڈاگ شو، تیر اندازی، جسمانی کرتب، کراٹے، بچوں کے لئے میجک شوز، کٹھ پتلی تماشہ، علاقائی رقص، فوک میوزک، ثقافتی شو، ون مین شو، کامیڈی شو، دستکاری کے سٹالز، شاپنگ گالا، فوڈسٹریٹ اور دیگر تقریبات شامل ہیں۔ فیسٹیول کی تقریبات کے لئے کالام اور مہوڈھنڈ جھیل کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جہاں کے خوبصورت اور حسین نظارے آنکھوں کو خیرہ کرتے ہیں۔ یہ فیسٹیول چار دن جاری رہے گا۔
سوات کو جہاں اللہ تعالیٰ نے دلکش قدرتی حسن اور پرفضاء آب وہوا عنایت کی ہے وہاں سوات اپنی جگہ ایک تاریخی لئے ہوئے بھی ہے۔یہاں پر قدرتی نظاروں کے ساتھ ساتھ کئی جگہوں پر آثار قدیمہ کے نوادرات اور آثار بھی ہیں۔ ہرسال لاکھوں سیاح وادی سوات کے مختلف علاقوں کی سیاحت کرتے ہیں اور  خاص کرمرغزار، گلی باغ، مدین، میاندم، بحرین، کالام اور کالام کے اطراف میں واقعہ وادیوں میں اپنی چھٹیاں گزارکرقدرت کے حسن سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میر ہر درجہ کے مناسب ہوٹل دستیاب ہیں۔ جن میں آپ اطمینان سے قیام کرسکتے ہیں۔ سیدو شریف میں سوات سرینہ ہوٹل، پی ٹی ڈی سی قابل ذکر ہیں جبکہ مرغزار میں سابقہ والئی سوات کا محل "وائٹ پیلس ہوٹل" اور مینگورہ و فضاگٹ کے مقام پر پُرآسائش ہوٹل اور رہائش دستیاب ہیں جبکہ دیگر تفریحی مقامات پر ہوٹل، ریسٹ ہاؤسزموجودہیں۔ سوات کے مقامی باشندے بہت ملن سار اور محبت کرنے والے لوگ ہیں جو اپنے مہمانوں کو دلوں میں سما کر رکھتے ہیں، جس وقت سوات میں زیادہ ہوٹل اور ریسٹ ہاؤسز نہں تھے تب یہاں کے لوگ سیاحوں کو اپنے گھروں، بیٹھکوں میں جگہ دیتے رہے ہیں۔ سوات آمد کے لئے ملک کے مختلف شہروں سے بس، فلائنگ کوچ/کوسٹر سروس، کے ساتھ ساتھ رینٹ اے کار اور موٹر کارٹیکسی (جوکہ چار چار سواریوں کو لے جاتی ہے) دستیاب ہیں۔ سب سے بہترین سروس ڈائیو بس سروس کی ہے، ان کا کرایہ تھوڑا زیادہ ہے مگر سروس اچھی ہے۔ ڈائیو کی بسیں پاکستان کے تقریباً سب بڑے شہروں سے مینگورہ سوات کے لئے اپنی سروس فراہم کرتی ہے۔ اپنے شہر کے حساب سے آپ ڈائیو بس سروس کا شیڈول ملاحظہ کرکے اپنی سہولت کے مطابق سوات کے لئے سیٹس منتخب کرسکتے ہیں۔ سوات میں آمد سب سے پہلے مرکزی مینگورہ شہر میں ہوتی ہے جہاں پر ضرورت زندگی کی ہر چیز دستیاب ہے۔ مینگورہ نہ صرف ضلع سوات کا بڑا شہر بلکہ یہاں کی تجارتی، معاشی، علمی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ مینگورہ اور سیدو شریف دو جڑواں شہر کھلاسکتے ہیں۔ ریاست سوات کے زمانے میں سیدو شریف سوات کا دارلخلافہ تھا، سابق بادشاہ سوات اور والئی سوات کا قیام سیدوشریف میں تھا اس وجہ سے یہاں پرسابق ریاست سوات کے دربار سمیت تمام سرکاری محکموں کے دفاتر تھے اور اب بھی تمام سرکاری محکمے یہاں موجود ہیں۔ سیدو شریف میں "سیدو بابا" کا مزار بھی واقع ہے جو کہ اس علاقے کے ایک مذہبی اور روحانی شخصیت تھے۔
وادی سوات میں چاروں طرف خوبصورت وادیاں، پہاڑ، ندیاں واقع ہیں جہاں آپ آکر اپنی چھٹیوں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے تفریحی ٹور کے لئے آپ کو سوات کے مرکزی شہر مینگورہ پہنچنا ہوگا۔ یہاں سے آپ ایک دن میں مرغزار کی وادی جاسکتے ہیں جو کہ مینگورہ سے بطرف سیدوشریف واقع ہے۔ مرغزار میں والئی سوات کا مشہور "وائٹ ہاؤس/سفید محل" ہے جس کو اب ہوٹل میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ یہاں پاس ہی اسلام پور گاؤں ہے جہاں کی ہاتھ سے کھڈی پر بنائی گئی چادریں اور شال بہت مشہور ہیں یہاں نہ صرف آپ قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں بلکہ یہاں کے مقامی ہنر مندوں کی خوبصورت شال اور چادریں بھی لے سکتے ہیں۔ سیاحوں کے لئے دوسرا خوبصورت مقام "مالم جبہ" ہے۔ جبکہ مدین، بحرین اور کالام کے لئے الگ وقت مخصوص کرنا پڑتا ہے۔ 
ہر سال مارچ سے لے کر ستمبر تک نہ صرف ملک کے کونے کونے بلکہ بیرون ملک سے بھی لوگ سیاحت کے لئے آتے ہیں۔ ہر سال عید اور دوسرے تہواروں اور چھٹیوں پر سیاح بھرپور تعداد میں یہاں آتے ہیں۔ ابھی چونکہ عیدالفطر کی چھٹیاں گزری ہیں اس وجہ سے بھی سیاح بہت بڑی تعداد میں وادی سوات پہنچے ہیں اور اب "سوات سمر فیسٹیول" میں بھی ایک بڑی تعداد کی آمد متوقع ہے۔ ایسے موقعوں پر یہاں اکثر ٹریفک کے مسائل بہت سامنے آتے ہیں اور کئی کئی گھنٹے سڑکیں بند رہتی ہیں۔ اس لئے آپ سے گزارش ہے کہ جب بھی گاڑی میں سفر کریں اپنی لین میں گاڑی کو رکھیں اور غلط سائیڈ پر اوور ٹیک یا لین کراس کرتے وقت اپنی مخصوص لین میں رہیں تاکہ ٹریفک جام کے مسائل نہ ہوں کیونکہ وادی سوات کی سڑکیں تنگ ہیں اور ٹریفک کا دباؤ بہت زیادہ ہے۔ گاڑی میں اگر مناسب مقدار میں پٹرول/ڈیزل بطور احتیاط رکھ لیا جائےتو بہتر ہے کیونکہ بعض اوقات رش، ٹریفک جام کی وجہ سے گاڑیوں میں ایندھن کم یا ختم ہوجاتا ہے جو کہ الگ سے پریشانی کا سبب بنتا ہے۔ پاکستان آرمی کی طرف سے عوام کی سہولت اور حفاظت کی خاطر کئی جگہوں پر سیاحوں کی رہنمائی اور اندراج کے لئے چیک پوسٹس بنائی گئی ہیں جہاں پر مخصوص لین میں گاڑی چیکنگ کے لئے لے جانی ہوتی ہے۔ رات کے وقت ڈرائیور حضرات اپنی گاڑی کی ہیڈ لائٹس چیک پوسٹس پر مدہم یا بند رکھیں تاکہ چیکنگ کرنے کے دوران آسانی ہو۔ سب سے ضروری بات، سوات آتے ہوئے اپنا قومی شناختی کارڈ اور جن کا نہیں بنا ہووہ لوگ سکول/کالج/یونیورسٹی کارڈ اپنے ہمراہ ضرور رکھیں، اس کے بغیر ضلع سوات میں داخلہ ممنوع ہے۔ جو لوگ فیملی کے ساتھ آرہے ہوں اُن کے لئے ہدایت ہے کہ اگر میاں بیوی سفر کررہے ہوں اور شناختی کارڈ میں بطور میاں بیوی اندراج نہ ہو تو نکاح نامے کی ایک فوٹو کاپی ضرور رکھئےگا۔ حکومت خیبر پختونخوا کے کرایہ داروں اور ہوٹلز/گیسٹ ہاؤسز میں قیام کرنے والے مہمانوں /افراد کے لئے نئے قانون کی وجہ سے شناختی کارڈ/نکاح نامہ لازمی قراردیا گیا ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے اگر ایک کاپی اپنے سامان میں رکھ لی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
سب سے اہم مسئلہ جس کی نشاندہی پہلے بھی ہم کرچکے ہیں اور آج پھر درخواست کررہے ہیں کہ دریائے سوات میں نہانے سے گریز کیا جائے۔ آج کل دریا میں طغیانی کے دن ہیں اور پانی کا بہاؤ بھی کافی زیادہ ہے، اس لئے دریا کنارے سیر کے دوران احتیاط سے کام لیں، بچوں کو خاص کر پانی سے دور رکھیں، تصاویر بناتے ہوئے دریا کے پتھروں پر کھڑے اور بیٹھتے وقت خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ پتھر پھسلن زدہ ہوتے ہیں اور کئی افراد دریا کی بے رحم موجوں کا شکار ہوچکے ہیں اور حال ہی میں کراچی کے سی ویو پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ سب کی نظر میں ہوگا جس میں تقریباً پینتیس نوجوان اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے اور دریائے سوات میں بھی ہر سال کئی لوگ بے احتیاطی کی وجہ سے ڈوب جاتے ہیں۔
سیر و تفریح کے لئےجاتے ہوئے لوگ اپنے ساتھ کھانے پینے کی اشیاء لے کر جاتے ہیں، پکنک منا کر استعمال شدہ اشیاء کی باقیات وہی چھوڑ دیتے ہیں۔ آج کل اگر دیکھا جائے تو ہر پارک اور تفریحی مقام پر گندگی اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں۔ جس سے نہ صرف ماحول گندہ ہوتا ہے بلکہ قدرتی خوبصورتی بھی متاثر ہوتی ہے۔ ندی نالے پلاسٹک کے بیگز اور بوتلوں سے بھرجاتے ہیں جو ان حسین نظاروں کے لئے ایک بدنما داغ ہوتے ہیں۔اگر تھوڑی سی احتیاط کی جائے اور جو سامان ہم اپنے ساتھ لاتے ہیں ان سے بچ جانے والے گند و کوڑے کو ہم مناسب شاپنگ بیگز میں بند کرکے اپنے ساتھ واپس لے جاکر کسی مناسب مقام پر تلف کردیں تو کوئی شک نہیں کہ ہمارے یہ قدرتی نظارے ایسے ہی خوبصورت رہے ہیں گے اور ماحول بھی خراب نہیں ہوگا۔
ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر عمل کرکے ہم اپنی چھٹیوں اور تعطیلات کو خوشگوار بنا کر لطف اندوز ہوسکتے ہیں اور واپسی پر مینگورہ شہر اور آس پاس کے بازاروں سے اپنے عزیزوں اور پیاروں کے لئے سوات کے تحائف جن میں یہاں کے ہاتھ سے بنے ہوئے کھڈی کے چادر و شال، گرم ملبوسات، کوٹ، ٹوپیاں، شہد اور یہاں کے پھل بطور تحفہ لے کر جاسکتے ہیں۔
اس سال پاک آرمی اور خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ "سوات ٹورسٹ گالا"  / "سوات سمرفیسٹیول" کی تقریبات کی ترتیب و تفصیل درجہ ذیل ہے۔ مزید تفصیلات سوات سمر فیسٹیول کی آفیشل فیس بک پیج پر دیکھی جاسکتی ہیں۔
سوات آنے والے سیاحوں کی رہنمائی کے لئے نقشہ اور فاصلے بھی درج ہیں۔







Comments

  1. اگر آپ سپانسر کریں تو ہم بھی دیکھنے آجاتے ہیں

    ReplyDelete
  2. زبردست اور مفید معلومات کے ساتھ مزین کردہ تحریر۔
    کم از کم بندہ کو تمام احوال اور ضروریات سفر کا اندازہ ہوجاتا ہے
    نیز احتیاطی تدابیر بھی اچھی خاصی بیان کی گئی ہیں۔
    شکریہ ایک معلوماتی تحریر کیلئے

    ReplyDelete
  3. دل جلانے والی تحریر :)

    ReplyDelete
  4. وہاں پر آپ کو سوات منتخب کرنا ہے۔ مینگورہ لسٹ میں نہیں ہے۔ سوات ہے۔

    ReplyDelete
  5. تحریر کو سراہنے کا بہت شکریہ

    ReplyDelete
  6. Well done Mr. Naeem, great work to guide tourists for summer festival۔۔۔۔۔

    ReplyDelete
  7. Thank you sir, your appreciation gives me strength.

    ReplyDelete

Post a Comment