صوبائی حکومت کا قابل قدر خیال

تحریر: پروفیسر سیف اللہ خان


28 جون 2014ء کو پشاورکے ایک بڑے اخبار نے خبر شائع کی کہ موجودہ پی ٹی آئی کی حکومت علماء کی حکومت کے اُس نقصان دہ قانون پر نظر ثانی کر رہی ہے جس کے تحت صوبے میں شعبۂ تعلیم کے نیم خود مختار اداروں کو گورنر کی (غیر جانب دارانہ) نگرانی سے نکال وزیراعلیٰ جیسی جانب دار شخصیت کے ما تحت کیا گیا ہے۔ علماء کی حکومت کے اس فیصلے نے ان اداروں کی کارکردگی کو شدید متاثر کر دیا ہے اور ان میں ایسے افراد تعینات ہوگئے ہیں، جن کی مسلم سیاسی وابستگیاں تھیں، سیاسی سفارش۔ یہ جو لوگ کرسیوں پر براجمان ہوتے ہیں، اُن میں ایک طرف درکار قابلیت نہیں ہوتی، دوسری طرف وہ بہت کم غیر جانب دار ہوتے ہیں۔ علماء کے بعد پختون قوم کی حکومت آئی لیکن اُس حکومت کا ایجنڈا صرف ’’پختون خاندان کی ترقی‘‘ تھا۔ اس لیے اُس نے علماء حکومت کی غلطیوں کی اصلاح کی طرف توجہ نہ دی۔ اب پی ٹی آئی سرکاری نے تعلیمی بورڈ کو ایک دفعہ پھر گورنر کے ما تحت کروانے کی سعی شروع کی ہے اور سفارشات مرتب کرنے کے لیے ایک آٹھ رکنی کمیٹی قائم کی ہے۔ 

حکومت کی اس کاوش کو زیادہ بار آور بنانے کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ تمام ادارے جو گورنر کے ماتحت تھے، اُن سب کو اس زیر غور منصوبے میں شامل کیا جائے۔ ملک بھر میں نجی شعبہ، تعلیم میں ایک فعال کردار ادا کررہا تھا لیکن یہ کئی ایک مشکلات کا شکار تھا اور آج بھی ہے۔ اس شعبے کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے چاروں صوبوں اور مرکز میں ایجوکیشن فاؤنڈیشنز قائم کی گئیں۔ 
ہمارے صوبے میں فرنٹیئر ایجوکیشن فاؤنڈیشن قائم کی گئی جس کے سربراہ ازروئے قانون وزیراعلیٰ تھے۔ اس طرح سرحد ہیلتھ فاؤنڈیشن قائم کی گئی۔ ہیلتھ فاؤنڈیشن تو وزیراعلیٰ کی عدم توجہی سے روز اول ہی سے چل نہ سکی۔ البتہ فرنٹیئر ایجوکیشن فاؤنڈیشن نسبتاً بہتر مالی اور افرادی قوت کی وجہ سے زندہ رہی، لیکن اسے بھی وزرائے اعلیٰ صاحبان اپنے دوسرے زیادہ اہم ذمہ داریوں کی وجہ سے مناسب توجہ نہ دے سکے۔ اس لیے یہ بھی نجی شعبۂ تعلیم کی بہتری کے لیے مناسب کردار ادا نہ کرسکی۔ اس کی بڑی وجہ وزیراعلیٰ کا مصروف ترین قلم دان تھا۔ اس کڑوے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے اور فاؤنڈیشنز کی اہمیت کے پیش نظر جنرل پرویز کی مارشل لاء حکومت کے دور میں ان کو وزیراعلیٰ کی سربراہی سے نکال کر گورنر کی نگرانی میں کردیا۔ تعلیمی بورڈز پہلے سے گورنر کی نگرانی میں تھے۔ علماء کی حکومت نے نہ معلوم کن مقاصد کے پیش نظر ایک صوبائی قانون کے تحت تمام تعلیمی بورڈز اور فاؤنڈیشنز کو گورنر کی سربراہی سے نکال کر وزیراعلیٰ جیسی مصروف شخصیت کے ما تحت کردیا۔ 
مبصرین کا خیال تھا کہ گورنر کو اپنی خواہشات پر راضی کرنا سیاسی افراد کے لیے آسان نہ تھا، جب کہ وزیراعلیٰ کی یہ کمزوری ہوتی ہے کہ وہ اپنی پارٹی والوں کے اور دوسری سیاسی جماعتوں کے ارکان کے نخرے اٹھانے پر مجبور ہوتا ہے۔ 
سیاسی افراد چوں کہ ذاتی اور پارٹی مفادات کو زیادہ پسند کرتے ہیں، اس لیے انھوں نے یہ کامیاب کوشش کی۔ بورڈز میں سیاسی مداخلتیں، اقربا پروریاں، مالی اور پیشہ ورانہ بد اعتدالیوں کی خبریں عام ہیں۔سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں اور تعیناتیوں کا رونا رویاجاتا ہے۔ سیاسی مفادات تعلیم جیسی اہم ترین ضرورت پر غالب آگئے ہیں۔ ایجوکیشن فاؤنڈیشنز میں بد عنوانیوں یا بد اعتدالیوں اور کم ترین کارکردگی کی خبریں آتی رہتی ہیں بلکہ نجی شعبے کی فلاح کی باتیں تو اب پشاور بھول چکا ہے۔ 
اب پی ٹی آئی حکومت نے اس طرف توجہ دی ہے اور سفارشات کے لیے آٹھ رکنی ٹیم مقرر کی ہے، بہتر ہوتا کہ ٹیم کے سربراہ کا نام و پتہ بھی شائع کیا جاتا۔ ہماری دانست میں مندرجہ ذیل نکات کو بھی اگر مناسب توجہ دی جائے، تو حکومت کی یہ قابل قدر کاوش مزید بہتر نتائج دے گی۔ 
1:۔ علماء کی حکومت نے اگر چہ صوبائی اسمبلی سے قانون سازی کروائی تھی، لیکن آئین کے آرٹیکل 247(3)کی روشنی میں کوئی بھی صوبائی یا مرکزی مقننہ کا بنایا ہوا قانون (ایکٹ) پاٹا اور فاٹا پر صدر مملکت کی توثیق کے بغیر نافذ نہیں ہوتا۔ موجودہ پی ٹی آئی حکومت یا اس کے بنائے ہوئے مجلس کو یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا علماء کی حکومت نے تعلیمی بورڈز وغیرہ کے سلسلے میں جو ایکٹ پاس کیا تھا، کیا اُس کی توثیق برائے پاٹا اور فاٹا صدرِ مملکت سے حاصل کی گئی تھی؟ اگر ہاں تو ٹھیک، اگر جواب نا میں ہے تو وزرائے اعلیٰ کا سوات بورڈز اور شاید ملاکنڈ پر قبضہ غیر آئینی تھا اور ہے۔ 
وزیراعلیٰ کی سربراہی والے بورڈز کا رول اور کاوشیں پاٹا اور فاٹا میں آئینی طور پر غیر قانونی تھیں اور ہیں۔ صوبائی حکومت فاٹا کے معاملات پر کام کرہی نہیں سکتی۔ اس طرح اس کا بنایا ہوا قانون پاٹا پر بہ راہ راست نافذ نہیں ہوتا۔ 
2۔ ملاکنڈ اور سوات بورڈز (بہ شرط یہ کہ صدر مملکت کی توثیق واقعی موجود نہ ہو) پہلے بھی گورنر کے ما تحت تھے اور آج بھی ہیں۔ اس حقیقت کو زیر غور دستاویزات میں جگہ دی جائے۔ گورنر صاحب گورنر صاحب فوری طور پر ان بورڈز کے معاملات اپنے ہاتھ میں لیں۔ ان کا صوبائی وزیراعلیٰ کے ماتحت ہونا ہی آئینی طور پر غلط ہے۔ وزیراعلیٰ کے زیر سایہ ان دو بورڈز میں جتنے بنیادی نوعیت کے فیصلے ہوتے ہیں، اُن پر گورنر صاحب کی سربراہی میں غور کیا جائے اور اُن کو قانون کے مطابق لایا جائے۔ 
اس طرح دوسرے بورڈز نے وزیراعلیٰ صاحب کے زیر سایہ جو بنیادی نوعیت کے فیصلے اور امتحانات فاٹا کے اداروں کے بارے میں کیے ہیں۔ اُن کا آئین اور قانون کے تحت جائزہ لے کر درستگی کے متعلق تسلی کی جائے۔ ورنہ ضروری اصلاحی اقدام کیے جائیں۔ 
3:۔ فاٹا کے لیے الگ تعلیمی بورڈ کا قیام ایک اہم آئینی اور قانونی ضرورت ہے۔ گورنر صاحب یا صدر مملکت فوری طور پر اپنے ریگولیشن یا صدارتی فرمان کے ذریعے اسے قائم کریں۔ 
*۔۔۔*۔۔۔*

Comments

  1. خیبر پختون خوا کی حکومتی جماعت کے مطابق اُن کی جماعت دیانتدار ہے اور عوام کی دل و جان سے خدمت کر رہی ہے تو پھر مُشکل کیا ؟ تمام اداروں کا دیانتداری سے معائنہ اور تجزیہ کریں اور جو سیاسی بھرتیوں یا اقرباء پروری کا شکار ہونے کے باعث نااہل ہیں اُنہیں درست سمت عطا کریں ۔ بکرے کی بلا طویلے کے سر پر تو نہ ڈالیں ۔ آئی ڈی پیز وفاقی حکومت کا مسئلہ ہے ۔ نااہل ادارے گورنر کے سر تھوپ دو اور خود جلسے جلوسوں پر عوام کا کروڑوں روپیہ برباد کر کے دوسروں کی تحیک کرو ۔ کیا اسی کو عوام سے محبت اور دیانداری کہتے ہیں ؟

    ReplyDelete

Post a Comment