Chrysanthemum-گل داؤدی

گل داؤدی Chrysanthemum
جاڑوں میں بہار رنگ پھول
خزاں اور ابتدائی موسم سرما کا دلکش پھول۔ جب موسم کے پھیکے رنگ کہر میں لپٹی چادر کے ساتھ سرمئی رنگ میں رنگے ہوتے ہیں ، عین اسی موسم میں گل داؤدی اپنے دلفریب اور خوبصورت حسین رنگوں سے خزاں کے موسم کو بہار کا تڑکا لگا رہا ہوتا ہے۔ سرخ، گلابی،نیلے، پیلے، سفید، کاسنی، جامنی، نارنگی اور دوسرے ہزار ہا رنگوں سے مزین اس پھول کو اگر خزان کے موسم کا بادشاہ اور جھاڑوں کا شہزادہ کہیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اس کے ہزاروں رنگ، نمونے اور قسمیں ہیں۔ اس وقت دنیا میں اس پھول کے تقریباً 5000(پانچ ہزار) اقسام موجود ہیں۔قدیم یونانیوں نے اس کا نام دو الفاظ گولڈن اور پھول کو ملا کر رکھا ہے۔ جاپان میں گل داؤدی کو مقدس پھول کی حیثیت حاصل ہے۔ چین میں ایک خاص تہور پر گل داؤدی سے مشروب تیار کیا جاتا ہے اور گھروں سے باہر گل داؤدی کی کیاریوں کے پاس بیٹھ کر یہ مشروب پیا جاتا ہے۔ گل داؤدی کی بعض اقسام کی پنکھڑیاں چائے کی پتی کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہیں۔ یہی پتیاں تکیوں میں روئی کی جگہ بھی بھری جاتی ہیں۔ ایسے تکیے موسم گرما میں اپنی مخصوص خوشبو کے باعث روح کو ٹھنڈک اور فرحت پہنچاتی ہیں۔ گل داؤدی اپنی خوبصورت بناوٹ اور نیم دائرہ پتیوں کی بدولت عہدِقدیم سے لے کر اب تک چینیوں کا دل پسند پھول ہے ۔ آج بھی یہ اپنی اصل جنگلی صورت میں ہانگ کانگ اور چائنا کے درمیانی علاقے میں پایا جاتا ہے۔
یہ پھول انتہائی خوبصورت ہوتے ہیں اور نہ صرف گملوں اور کیاریوں میں نہیں بلکہ گلدانوں میں بھی کئی کئی دن تک تازہ رہتے ہیں۔ گل داؤدی کے پھول تقریباً تین سے چار مہینوں تک کھلتے رہتے ہیں اور ان کی صحت متعلقہ آب وہوا اور موسم کے مطابق ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک جھاڑی نما پودا ہوتا ہے جس کو سہارا دے کر کھڑا کیا جاتا ہے۔ یوں تو گل داؤدی کا پودا سارا سال ہی زندہ رہتا ہے مگر قلموں سے اس کی کاشت اگست کے اواخر اور ستمبر کے اوائل میں ہوتی ہے۔ گرمی کا زور ٹوٹتے ہی جیسے موسم خنکی کی طرف جھکنے لگتا ہے تو گل داؤدی کی کونپلیں سر اُٹھانا شروع کردیتی ہیں۔ آج کل نرسریوں میں گل داؤدی کی کئی اقسام دستیاب ہیں جن کو آپ آسانی سے اپنے گھر کے آنگن میں خوبصورت گملوں میں لگا سکتے ہیں۔ گل داؤدی کے پھول کئی اقسام کے ہوتے ہیں ، چھوٹے بڑے سب سائزز میں دستیاب ہیں، بڑے پھول اکثر ٹہنیوں پر ایک سے چار کی تعداد میں لگتے ہیں جبکہ چھوٹے پھول گچھوں کی شکل میں بھی ہوتے ہیں۔اگر آپ کے پاس گل داؤدی کے پرانے پودے موجود ہیں تو نہایت آسانی سے ان سے نئے پودے لئے جاسکتے ہیں۔ پرانے پودے کی لمبی شاخوں کو کاٹ کر کسی بوتل یا گلاس وغیرہ میں پانی بھر کر رکھ لیں ، کچھ ہی دنوں بعد جڑیں نکل آئیں گی جن کو آپ گملوں میں منتقل کرکے نئے پودے لے سکتے ہیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ صحت مند شاخوں کو پودے کے تنے سے مناسب فاصلے پر کاٹ کر ان کو مٹی میں لگا دیں، کچھ دنوں بعد یہ بھی نئے پودے بن جائیں گے۔سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ پودے کی لمبی شاخوں کو پودے سے کچھ فاصلے پر مٹی میں اس طرح دبایں کہ ایک سر ا تو پودے کے ساتھ جڑا رہے اور دوسرا حصہ سرا مٹی سے باہر رہے جبکہ درمیان والا حصہ مٹی میں دبا ہوا ہو، اس طرح سے کچھ دنوں کے بعد مٹی میں دبے ہوئے حصے سے جڑیں نکلنا شروع ہوجائیں گی اور نیا پودا بن جائے گا، پھر احتیاط سے بڑے پودے والے تنے کی طرف سے شاخ کو کاٹ دیں اورنئے پودے کو ضرورت کے مطابق دوسری جگہ منتقل کردیں۔ اسی طرح اگر اس کے بیج آپ اکٹھے کرلیں تو ان کو بو کر بھی نئے پودے حاصل کرسکتے ہیں۔ ٹھنڈے علاقوں میں اکتوبر جبکہ میدانی علاقوں میں نومبر کے درمیان گل داؤدی کے پودے پر کلیاں نمودار ہونا شروع ہوجاتی ہیں چونکہ یہ ایک جھاڑی نما پودا ہے اس لئے ٹہنیوں کو سہارا دینے کے لئے لکڑی کی چھڑیوں یا بھاڑ لگا کر یا رسی ،تاروں وغیرہ سے سہارا دیا جاتا ہے۔ جب کلیاں نمودار ہورہی ہوتی ہیں تو ان کو سہارادیا جاتا ہے تاکہ ٹہنیاں ایک خوبصورت انداز میں نمایاں ہوکر پھولوں کی بہاربکھیرتی رہیں۔
ہر سال دنیاں کے بیشتر ممالک میں گل داؤدی کی نمائشیں منعقد کی جاتی ہیں ۔ چین ، جاپان اور بعض دیگر ایشیائی ممالک میں بہت بڑے پیمانے پر یہ نمائش ہوتی ہے۔ ان نمائشوں میں گل داؤدی کے پھولوں کو خوبصورت سجاوٹی سانچوں اور ڈھانچوں پر چڑھاکر خوبصورت ماڈل بنائے جاتے ہیں جو دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی گل داؤدی کی نمائش ہر سال اسلام آباد، راولپنڈی ، جہلم، لاہور، پشاور اور کراچی میں ہوتی ہے۔ پشاور میں گل داؤدی کی نمائش ہر سال دسمبر کے مہینے میں پشاور کینٹونمنٹ بورڈ کے زیر اہتمام منعقد کی جاتی ہے جس میں کئی کیٹیگریز میں ان خوبصورت پھولوں کی سجاوٹ کے مقابلے ہوتے ہیں، جن میں طلبہ طالبات سے لے گھریلوخواتین کے درمیان ان پھولوں سے گھر کے اندر گلدانوں میں سجاوٹ کے مقابلے، گھروں اور باغات کی کیٹیگری میں مقابلے اور مختلف دفاتر، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے درمیان بھی مقابلے رکھے جاتے ہیں اور باقاعدہ انعامات بھی تقسیم کی جاتی ہیں جن سے پھولوں سے محبت کرنے والے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
اس مضمون کی تیاری میں اُردو ویکیپیڈیا سے تعاون لیا گیا ہے۔

تصاویر گوگل سرچ سے لی گئیں ہیں۔



 




 


 
 

 



Comments

  1. ماشا ء اللہ ، نعیم بھائی ، آپ نے بڑی محنت سے لکھا ہے اور مزا آگیا ، الحمد اللہ میں بہت خوش ہوں چلیں اب ہم دو ہو گئے ہیں اس موضوع پر لکھنے والے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوب گزری گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو ۔۔۔۔

    ReplyDelete
  2. بہت خوب.
    اچھا ہے جناب
    جاری رکھیں

    ReplyDelete

Post a Comment