کتب میلہ

پشاور یونیورسٹی میں ہر سال کی طرح اِس سال بھی اسلامی جمعیت طلبا نے کتب میلہ منعقد کیا۔ یہ کتب میلہ ہر سال تواتر کے ساتھ منعقد کیا جاتا ہے۔ پشاور یونیورسٹی کی جغرافیائی محل وقوع کچھ یوں ہے کہ اِس کے اردگرد کئی اور یونیورسٹیاں اور کالجز ہیں اور چونکہ یہ مین یونیورسٹی روڈ پر ہے اِس لئے یہاں تک رسائی بہت آسان ہے۔ 
دور جدید میں طلبا اور عام لوگوں کا کتاب سے دوری کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ اب ہرکسی کو بہت سستی تفریح ہر جگہ ہر وقت بڑی  آسانی سے دستیاب ہے۔ پاکستانی عوام کی کتابوں میں دلچسپی تو ویسے ہی کم ہوچکی ہے کیونکہ یہاں ہر بندے کی قوت خرید وقت کے ساتھ  ساتھ کم سے کم ہوتی جا رہی ہے اور ہمارے معاشرے میں جو یہ نئی نئی برائیاں اور  آئے دن کی بے یقینی کی کیفیت اور امن امان کی بری حالت  ، ایک قاری کو ذہنی آسودگی مہیا نہیں کرتی ۔ اِس طرح کے انتشار کے دور میں ایک علمی میلہ سجانا ایک بہت بڑی بات ہے اور یہ بھی ایک بڑی بات ہے کہ یہ میلہ ایک طلباکی انجمن منعقد کر رہی ہے جہاں پر ان کے ہم عصر اور ہم پلہ طلباپارٹیاں زیادہ تر منفی رجحانات کی حامل ہیں۔ خیر بات کہیں سے کہیں جا رہی ہے، بات ہو رہی تھی کتب میلے کی۔ کل جب میں وہاں گیا تو طلبا کہ ایک اچھی خاصی تعداد کو دیکھا، کچھ کے ساتھ  کتب میلے کے بارے میں بات چیت بھی ہوئی۔ میلے کے باہر میری خالد سے بات ہوئی جو کہ زرعی یونیورسٹی کا طالب علم ہے ا س نے کہا کہ میں زیادہ تر اپنی کورس کی کتابوں تک محدود ہوں اور تقریباً میرے جتنے بھی دوست ہیں وہ بھی کورس سے متعلق کتابیں ہی پڑھتے ہیں۔ میلے میں پشاور یونیورسٹی کی بی ایس کی دو طالبات سےبات چیت کے دوران اُنہوں نے کہا کہ ہم عام کتابیں بھی پڑھتی ہیں اور کورس کی بھی۔ ان سے جب دور جدید کی نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں بات کی تو اُنہوں نے کہا کہ کتاب کی اپنی حیثیت ہمیشہ رہے گی اور آن لائن کتابیں پڑھنا اور الیکٹرانک کتابوں کا مطالعہ کرنا بھی اچھا ہے مگر اُس کے لیے زیادہ وسائل کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ایک عام طالب علم کی اتنی حیثیت نہیں کے وہ یہ برداشت کر سکے اور سب سے بڑا کرم ہماری واپڈا کا ہے۔ کچھ کتب فروشوں سے بات چیت ہوئی تو اُنہوں نے کہا کہ یہاں پر ہماری اُمید سے زیادہ خریداری ہوئی ہے اور زیادہ تر خریداری بڑی عمر کے لوگوں نے کی ہے ۔طلبا نے کتب میلے کے بارے میں اپنی رائے میں کہا کہ کتابوں کی قیمتیں زیادہ ہیں جس کی وجہ سے اُن کی قوت خرید سے باہر ہیں۔ یونیورسٹی گیٹ کے باہربس سٹاپ پر ایک لڑکا "ملنگ" پرانی کتابیں سجائے بیٹھا ہوتا ہے ۔دو دن سے اُس کے گاہک کم ہوگئے ہیں مگر وہ پھر بھی خوش تھا اورکہہ رہا تھا کہ جو اللہ نے میرے نصیب میں لکھا ہےوہ مجھے دے گااور جب لوگوں کہ اس میلے میں کتابیں خریدینے کی عادت ہوجائے گی تو اللہ میرے بھی رزق میں برکت ڈالے گا۔
مجھے تو خوشی اس بات کی ہوئی کہ مجھے اپنی بیٹی کے لئے یہاں کچھ کتابیں مل گئیں،رات کو جب وہ اپنی ماں کو مطالعہ کرتے دیکھتی ہے تو وہ بھی کتاب پڑھنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ ابھی اس کی عمر تین سال ہی ہے لیکن اگر اس عمر سے ہی بچوں میں مطالعہ کا رجحان پیدا نہ کیا گیا تو 
پھر ہماری لائیبریریاں اسی طرح ویران رہیں گی۔












Comments

  1. السلام علیکم
    کتب واقعی کامیاب انسانی زندگی کا لازمی جزو ہیں۔ اور ایک بہترین ساتھی بھی
    خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں اپنے لمحات ان کے ساتھ گزارنے کا بے انتہا شوق ہوتا ہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید ایجادات بطور خاص موبائل اور انٹر نیٹ ، ٹی وی نے کتب بینی کا شوق اگر ختم نہیں تو بہت حد تک کم کر دیا ہے۔ اور یہی سبب ہے کہ کتابوں کی اشاعت اور ان کی دستیابی بھی اب مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

    ایسے میں لوگوں کو کتاب کی طرف متوجہ کرنا، انہیں ایک چھت تلے بے شمار کتابیں خریدنے کا موقع فراہم کرنا واقعی ایک خوش آئند اور قابل صد تحسین عمل ہے۔

    اللہ کاوشوں کو قبول فرمائے اور ہماری زندگیوں کو علم کے نور سے منور کر دے ۔

    جزاک اللہ برادرم تفصیلی روداد ہم تک پہنچانے کے لیے

    ReplyDelete
  2. قوت خرید میں کمی کتاب سے دوری کی ایک جزوی وجہ ہو سکتی ہے مگر مکمل وجہ نہیں! یار لوگ موبائل فون، کیمروں، جیسی اشیاء پر تو خرچہ کر لیتے ہیں مگر کتاب خرید کر پڑھتے جان جاتی ہے۔
    علم دوست کو کتاب کی اہمیت بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور جن کو کتاب سے محبت نہ ہو وہ علم سے دور ہوتے ہیں!

    ReplyDelete
  3. کتاب سے بہتر کوئی ہمنشیں نہیں۔

    ReplyDelete

Post a Comment